Wrong use of Ai tools in life
آج کل ہم ہر چھوٹی بڑی بات کے لیے ChatGPT یا Gemini جیسے AI ٹولز سے مشورہ کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، AI کوئی جیتا جاگتا انسان نہیں ہے، یہ صرف ایک "الگورتھم" ہے جو آپ کی ہاں میں ہاں ملانا جانتا ہے AI آپ کا آئینہ ہے، آپ کا ہمدرد نہیں! AI کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ آپ کے موڈ اور آپ کی باتوں کے مطابق اپنا جواب بدل لیتا ہے۔ اگر آپ اسے کہیں گے کہ "فلاں بندہ برا ہے"، تو وہ اس کی برائیاں نکال دے گا۔ یہ آپ کو کبھی غلط نہیں کہتا، اور یہی چیز آپ کے سماجی تعلقات (Relationships) خراب کر دیتی ہے۔ ایک واقعہ جو میرےدوست کی دوکان پر ہوا: میں نے دیکھا کہ ایک صاحب دکان پر سوٹ خریدنے آئے۔ دکاندار نے قیمت بتائی: "بھائی، یہ 2500 روپے کا ہے۔" ان صاحب نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے موبائل پر AI سے پوچھا: "دکاندار مجھ سے 2500 مانگ رہا ہے، کیا یہ زیادہ ہیں؟" AI نے فوراً جواب دیا: "جی ہاں، یہ قیمت زیادہ ہو سکتی ہے، آپ کو دکاندار سے بحث کرنی چاہیے اور ریٹ کم کروانا چاہیے۔" ان صاحب نے AI کی بات مان کر دکاندار سے بحث شروع کر دی۔ دکاندار کافی سیانا اور تجربہ کار تھا، اس نے مسکرا کر کہا: "بھائی، ذرا اپنے اس AI سے یہ تو پوچھو کہ دکاندار ریٹ کم نہیں کر رہا، اب میں کیا کروں؟" جیسے ہی ان صاحب نے یہ صورتحال لکھی، AI نے فوراً پینترا بدل لیا اور کہنے لگا: "ہو سکتا ہے کہ اس سوٹ کی کوالٹی بہت اعلیٰ ہو یا دکاندار کو پیچھے سے مہنگا ملا ہو، اس لیے آپ کو پورے پیسے دے دینے چاہئیں کیونکہ اس کی اصل ویلیو اتنی ہی ہے۔" نتیجہ یہ نکلا کہ وہ صاحب پورے پیسے دے کر سوٹ لے گئے، لیکن بلاوجہ کی بحث سے انہوں نے دکاندار کے سامنے اپنا امیج بھی خراب کیا اور اپنا وقت بھی ضائع کیا۔ 1. AI صرف آپ کی مرضی کا غلام ہے: آپ جیسا سوال پوچھیں گے، یہ ویسا ہی جواب دے گا۔ یہ آپ کو وہ کہتا ہے جو آپ "سننا چاہتے ہیں"، وہ نہیں جو "سچ" یا "حقیقت" ہے۔ 2. انسانی جذبات اور تجربہ: دکاندار کا سالوں کا تجربہ اور انسانی رشتوں کی نزاکت ایک مشین کبھی نہیں سمجھ سکتی۔ 3. مشورے کے لیے انسان چنیں: اپنی زندگی کے اہم فیصلے، خریداری کے معاملات اور رشتوں کے مسائل کسی جیتے جاگتے انسان یا مخلص دوست سے ڈسکس کریں، نہ کہ کسی ایسے سافٹ ویئر سے جو آپ کے ایک جملے پر اپنی پوری فلاسفی بدل لیتا ہے۔ ٹیکنالوجی کو "کام" کے لیے استعمال کریں، "زندگی" کے فیصلوں کے لیے نہیں۔