ساٹھ روپے کا پراٹھا اور ساٹھ کی میٹھی چائے. 120 روپے میں، ایک سٹوڈنٹ کا پورا دن اسی پر گزر رہا ہے۔
میدے کا پراٹھا جسے کرسپی اور مزیدار بنانے کیلئے شوگر ایڈ کیجاتی ہے.، اوپر سے اومیگا6 سستا تیل (پتے میں پتھری بنانیوالا) اور ساتھ تیز چینی والی چائے۔ پیٹ تو بھر جاتا ہے، مگر جسم کو کیا مل رہا ہے؟ قدم قدم پر کھلنے والے کوئٹہ ہوٹلز یہی بیچ رہے ہیں.
مسئلہ صرف ایک کھانے کا نہیں، بلکہ روزانہ کی عادت کا ہے۔ جب یہی چیز بار بار کھائی جائے تو وزن، شوگر اور دل کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نوجوان اتنی جلدی بیمار کیوں ہو رہے ہیں۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی نوجوان شام کو جم بھی جاتا ہے اور پھر گھٹیا معیار کا whey protein استعمال کرتا ہے، جس میں سستا سویا شامل ہوتا ہے نہ ڈائٹ درست، نہ سپلیمنٹ قابلِ اعتماد م، صرف پیسے اور صحت دونوں کا نقصان۔
دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ سٹوڈنٹ کے پاس آپشن ہی کیا ہے؟ سستا، فوری اور پیٹ بھرنے والا کھانا، یہی ملتا ہے ہر گلی میں۔
آج کا سٹوڈنٹ، کل کا مریض نہیں ہونا چاہیے۔