یہ پانچ دن ایک پروجیکٹ میں گزر گئے جو لنکڈان سے 300 ڈالرز کا کلائنٹ ملا تھا ، زوم میٹنگ ہوئی اور پروجیکٹ مل گیا جس کے بعد یہ پانچ دن اسی پر کام کیا اور الحمد للّہ آج وہ پروجیکٹ ڈیلیور کردیا ہے بس اگلے سات دن تک مانیٹرنگ کرنی ہے۔
گزشتہ پوسٹ پر ایک خاتون کا کمنٹ آیا تھا جس میں انہوں نے سمجھایا تھا کہ ہر گھنٹے کی تفصیل لکھ دیا کریں کہ آپ نے کیا کیا ، میرے لیے ایسا کرنا مشکل ہے کیوں کہ میں ایک ہی بندہ ہوں اور سارا کام خود ہی کرنا پڑتا ہے اس لیے مجھے ٹائم نہیں ملتا اور نہ مجھے یاد رہتا ہے کہ اس گھنٹے کیا کیا۔ بس صبح سات سے شام چار بجے سر جھکا کر کام کر رہا ہوتا ہوں، اور یہ میرا روز کا معمول ہے اب اگر ہر دن یہی لکھوں گا تو کاپی پیسٹ ہوجائے گا جسے بہت سارے لوگ پسند نہیں کریں گے۔
ابھی جو میری زندگی چل رہی ہے وہ چوبیس گھنٹے لکھ دیتا شاید سمجھ آئے کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں ۔
ابھی رمضان تھا تو سہری کے لیے اٹھتا ، سہری کر کے نماز پڑھنے کے بعد سات بجے تک سوتا رہتا۔
سات بجے اٹھ کر تیار ہو کر آفس آتا تھا اور ساڑھے سات بجے سے لے کر شام چار بجے تک آفس میں کام کرتا جس میں دو پرسنل بلاگز ہیں اور ایک یوٹیوب آٹومیشن کا چینل ہے جس پر کام کر رہا ہوں ۔ ساتھ ساتھ یوٹیوب ایس ای او اور گروتھ کی سروسز دیتا ہوں تو اس کے لیے کلائنٹ ہنٹنگ اور پھر جو پروجیکٹ مل جائے اس پر کام کرتا ہوں ۔
چار بجے گھر جا کر گھر والوں کے ساتھ مل کر افطاری کی تیاری کرتا تھا اور پھر افطاری اور مغرب کی نماز کے بعد والدین کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ ہوتی تھی اور میری ایک معذور بیٹی ہیں اس کے ساتھ تھوڑا کھیل لیتا تھا ، عشاء کی نماز و تراویح پڑھ کر سوتا تھا اور پھر وہی سہری اور اس کے بعد کی روٹین ۔
بس یہ میرا روز کا معمول ہے ، بہت سارے لوگوں کو یہ عجیب لگ رہا ہوگا کہ یہ کیا بات ہوئی لیکن میری زندگی بہت سمٹ گئی ہے اور میں الحمد للّہ اسی میں خوش ہوں۔
#ضیاء