عزت بے عزتی کے ٹاپک پر پروفیسر احمد رفیق اختر کا ایک لیکچر نظر سے گزرا۔۔میرا پورا نظریہ بدل گیا۔۔ اور میں اب چاہتی ہوں آپ لوگ بھی مستفید ہوں۔۔
فرماتے ہیں۔۔۔ کہ ایک جگہ میں لیکچر کے لیے انوائٹڈ تھا۔۔لوگوں سے ملتے ملاتے۔۔آگے پیچھے ہوگئے۔۔ عمارت میں داخل ہونے لگا تو گارڈ نے روک دیا۔۔۔نا صرف روکا بلکہ درشت اور بے عزتی کے انداز میں پوچھا کہ میں اس راستے سے آ ہی کیوں رہا ہوں؟؟
کہتے پہلے تو مجھے بڑا صدمہ ہوا۔۔۔کہ مجھ سے یہ کیسے بات کر رہا ہے؟؟ جس کے اعزاز میں یہ تقریب رکھی گئی اس سے؟؟؟
دوسرا دکھ یہ بھی تھا کہ یقینا یہ گارڈ مجھ سے نا واقف تھا۔۔۔ اس گارڈ نے ادارے میں لگے کسی پینا فلیکس تک کو نہیں دیکھا تھا ۔جہاں میری بڑی بڑی تصویریں خوش آمدید کے ساتھ لگی تھیں۔۔۔
اب اگر جوش میں آجاتا تو کسی ادارتی سرپرست کو بلا کر اسکی وہی پر کلاس لگوا لیتا ۔لیکن میں نے ایک لمحے کو رک کر سوچا۔۔۔کہ جو مجھے جانتا ہی نہیں۔۔اس کے روڈ لہجے کو اپنی بے عزتی سمجھنا اور اس سے مقابلہ باندھنا میری ںے وقوفی ہے۔۔۔جو مجھے جانتے تھے ان کا اور اس گارڈ کا موازنہ کرنا مناسب نہیں تھا۔۔میں چپ چاپ پیچھے ہٹ گیا۔۔یہاں تک کہ وہ خود مجھے ڈھونڈتے ہوے لینے آگئے۔۔
آپ سمجھ رہے ہونگے میں نے گارڈ کی جانب فاتحانہ نظروں سے دیکھا ہوگا۔۔۔
نہیں۔۔ایک گارڈ پر اپنا رعب بٹھانے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ اسکا مطلب بھی تو مقابلہ ہی ہوتا۔۔
۔۔ زندگی میں کئی لوگ ہمیں ایسے ٹکراتے ہیں۔۔جو ہماری عزت نفس کو اسی طرح مجروح کرتے۔۔۔لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے آپ نے ان کہ باتوں کو دل سے نہیں لگانا۔۔ان کے الفاظ ان کی اپنی قدروقیمت بتا رہے ہوتے آپ کی نہیں ۔۔کوئی حالات کا ستایا ۔۔ بدتمیز یا منفیت کا مارا آوارہ مزاج قسم کا بندہ اٹھ کر آپ کے گلے پڑ جاے تو اس سے آپ کی بے عزتی نہیں ہوجاتی۔۔۔اگلا اپنی عادت سے مجبور ہے۔۔اسکا یہی مسئلہ ہے۔۔وہ بغیر کسی مفاد کے۔۔۔ کسی سے عزت سے بات نہیں کر سکتا۔۔لہذا لپیٹ میں آپ بھی آگئے۔۔
یہ ایک مثال ہے